الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، وَإِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ , وَإِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ، يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح (میرے پاس گھر میں آنے کی) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: ”(نہیں) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3302 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح