بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3266 — باب: باپ کو اپنی کنواری بیٹی سے اس کا رشتہ کرنے کے لیے پوچھنا چاہیے۔
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: باپ کو اپنی کنواری بیٹی سے اس کا رشتہ کرنے کے لیے پوچھنا چاہیے۔ حدیث 3266
حدیث نمبر: 3266 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ (غیر کنواری) عورت اپنے آپ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے (کہ شادی کرے تو کس سے کرے یا نہ کرے) اور کنواری لڑکی کی شادی باپ اس کی اجازت لے کر کرے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3262 (صحیح) (لکن قولہ ’’أبوہا‘‘غیر محفوظ وانظر ما قبلہ، والأجل الکلمة غیر المحفوظہ جعلہ فی الضعیف (207) أیضا3062)»
قال الشيخ الألباني
صحيح م لكن قوله أبوها غير محفوظ
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح م لكن قوله أبوها غير محفوظ
← پچھلی حدیث (3265) باب پر واپس اگلی حدیث (3267) →