بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3258 — باب: باپ اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح کر سکتا ہے۔
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: باپ اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح کر سکتا ہے۔ حدیث 3258
حدیث نمبر: 3258 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَدَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعِ سِنِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں سات سال کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور جب میں نو برس کی ہوئی تو مجھ سے خلوت فرمائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16781) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی شادی قبل بلوغت اور صحبت بعد بلوغت ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ باپ اپنی جھوٹی بچی کی شادی کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3257) باب پر واپس اگلی حدیث (3259) →