بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3251 — باب: پسندیدہ شخص سے نکاح کے لیے عورت اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہے۔
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: پسندیدہ شخص سے نکاح کے لیے عورت اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہے۔ حدیث 3251
حدیث نمبر: 3251 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ ، ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 32 (5120) مطولا، والأدب 79 (6123) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 57 (2001) (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اگر آپ مجھے نکاح کے لیے قبول فرمائیں تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3250) باب پر واپس اگلی حدیث (3252) →