بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَوْ كَانَ طَلَاقًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الطلاق 5 (5262)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1477)، سنن ابی داود/الطلاق 12 (2203)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179م)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 12 (2052)، (تحفة الأشراف: 17634)، مسند احمد (6/45، 47، 173، 239، 240، 264، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3474، 3475) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نہیں، طلاق نہیں تھا گویا بیوی جب شوہر کو اختیار کر لے تو تخییر طلاق نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح