بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3200 — باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔ حدیث 3200
حدیث نمبر: 3200 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس ایک ہی رات میں جایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 12 (268)، 34 (284)، وانکاح 4 (5068)، 102 (5215)، (تحفة الأشراف: 1186)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (309)، سنن ابی داود/الطہارة 85 (218)، سنن الترمذی/الطہارة 106 (140) (کلہم کلہم إلی قولہ: غسل واحد) سنن ابن ماجہ/الطہارة 101 (589)، مسند احمد 3/99، 185، 225، 239 (کلہم إلی قولہ: غسل واحد وأحمد فی 3/160، 166، 252) بلفظ ’’فی یوم واحد‘‘ سنن الدارمی/الطہارة 70 (759) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب تقسیم واجب نہیں ہوئی تھی یا ایسا اس وقت ہوتا تھا جب آپ سفر سے واپس ہوتے، یہ بھی ممکن ہے کہ تقسیم کا دور ختم ہونے کے بعد دوسرا دور شروع ہونے سے قبل ایسا کرتے رہے ہوں یا جن کے یہاں باری رہتی تھی ان کی اجازت سے ایسا ہوتا رہا ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3199) باب پر واپس اگلی حدیث (3201) →