بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3184 — باب: مجاہد کو سامان جہاد سے لیس کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل باب: مجاہد کو سامان جہاد سے لیس کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 3184
حدیث نمبر: 3184 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَلِيٌّ ، عُثْمَانُ ، طَلْحَةُ ، الزُّبَيْرُ ، سَعْدٌ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا، إِذْ أَتَانَا آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ، وَفِيهِمْ عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَلَيْهِ مُلَاءَةٌ صَفْرَاءُ، قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ، فَقَالَ: أَهَهُنَا طَلْحَةُ، أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَهُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" , فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ، نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" , فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: اجْعَلْهَا سِقَايَةً لَلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالًا، وَلَا خِطَامًا، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ (اکابر) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہم) ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ۱؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: جو شخص بنی فلاں کا کھلیان (مسجد نبوی کے قریب کی زمین) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے (وقف) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا، (تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کر دیا)، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے)، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں (تنگی و محتاجی والی فوج کو) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کر دیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے)۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9781)، مسند احمد (1/70، و یأتي عند المؤلف برقم: 3636، 3637) (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کر دی تھیں، اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ۲؎: یہ میں نے تیری رضا اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (3183) باب پر واپس اگلی حدیث (3185) →