مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ ، عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قال: أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِي الْإِبِلِ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 10368)، مسند احمد 4/263 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ناجیة“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره