هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبِي مُحَيَّاةَ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُحَيَّاةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: فَرَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ قَالَ:" مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 350 (1747)، 36 (1748)، 37 (1749)، 38 (1750)، صحیح مسلم/الحج 50 (1296)، سنن ابی داود/الحج 78 (1974)، سنن الترمذی/الحج 64 (901)، سنن ابن ماجہ/الحج 64 (3030)، (تحفة الأشراف: 9382)، مسند احمد (1/415، 427، 430، 432، 436، 456، 457، 458) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح