إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ عُمَرَ بِجَمْعٍ فَقَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو وہ کہنے لگے: اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے، کہتے تھے «أشرق ثبیر» ”اے ثبیر روشن ہو جا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 100 (1684)، ومناقب الأنصار 26 (3838)، سنن ابی داود/الحج 65 (1938)، سنن الترمذی/الحج 60 (896)، سنن ابن ماجہ/الحج 61 (3022)، (تحفة الأشراف: 10616)، مسند احمد (1/14، 29، 39، 42، 50، 54)، سنن الدارمی/المناسک 55 (1932) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ثبیر مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح