قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ،" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذَا إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْحُمْسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے؟)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 91 (1664)، صحیح مسلم/الحج21 (1220)، (تحفة الأشراف: 3193)، مسند احمد 4/80، سنن الدارمی/المناسک 49 (1920) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح