عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ کے دن) ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصیام49 (2419)، سنن الترمذی/الصیام59 (773)، مسند احمد 4/152، سنن الدارمی/الصوم47 (1805) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عرفہ کے دن روزہ کی ممانعت اس حج کرنے والے شخص کے لیے خاص ہے جو اس دن میدان عرفات میں ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح