هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ خَلْفَهَا فَبَالَ إِلَيْهَا. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ، فَقَالَ:" أَوَ مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ صَاحِبُهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ڈھال کی طرح کوئی چیز تھی، تو آپ نے اسے رکھا، پھر اس کے پیچھے بیٹھے، اور اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کیا، اس پر لوگوں نے کہا: ان کو دیکھو! یہ عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ”کیا تمہیں اس چیز کی خبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک شخص کو پیش آئی، انہیں جب پیشاب میں سے کچھ لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹ ڈالتے تھے، تو ان کے ایک شخص نے انہیں (ایسا کرنے سے) روکا، چنانچہ اس کی وجہ سے وہ اپنی قبر میں عذاب دیا گیا“۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 30]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 11 (22)، سنن ابن ماجہ/فیہ 26 (346)، (تحفة الأشراف: 9693)، مسند احمد 4/196 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (22) ابن ماجه (346) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
الحكم: صحيح