مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ ذَكَرَهُ فِي نَذْرٍ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَهُ، قَالَ:" إِنَّهُ نَذْرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے (باندھ کر) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: ”یہ نذر ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظرماقبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی نذر اس طرح بھی ادا ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح خ دون قوله إنه نذر
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح خ دون قوله إنه نذر