إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْلَا أَنَّ قَوْمِي وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ: قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ" , فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین (عائشہ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری قوم (اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، تو جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواہش کے مطابق) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الحج 47 (875)، (تحفة الأشراف: 16030)، مسند احمد (6/176) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: لیکن عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت میں حجاج بن یوسف نے اس دوسرے دروازے کو بند کر دیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح