إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ،" أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے حکم دیتے کہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحیض5 (299)، الصوم 4 (2030)، صحیح مسلم/الحیض 1 (293)، سنن ابی داود/الطہارة 107 (268)، سنن الترمذی/الطہارة 99 (132)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 121 (636)، (تحفة الأشراف: 15982)، مسند احمد 6/55، 134، 174، 189، 209، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1077)، ویأتی عندالمؤلف برقم: 374 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حدیث میں «يباشرها» کا لفظ آیا ہے یہاں مباشرت سے جماع مراد نہیں کہ یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ کیسے مباشرت کرتے جبکہ حائضہ سے مباشرت حرام ہے، بلکہ یہاں بوس و کنار اور لیٹنا مراد ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح