أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ ، عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ ، الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ ، أَبِي وَائِلٍ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لِأَصْحَابِي، فَمَسَّ رَأْسِي بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ:" انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ، وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: ”جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11108) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح