مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ،" فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهَا، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں (میں نے سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأطعمة32 (3801)، سنن الترمذی/الحج28 (851)، الأطعمة4 (1791)، سنن ابن ماجہ/الحج90 (3085)، الصید 15 (3236)، (تحفة الأشراف: 2381)، مسند احمد (3/297، 318، 321)، سنن الدارمی/المناسک 90 (8984، 1985)، ویأتی عند المؤلف في الصید 27 (برقم 4328) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح