بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2830 — باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟ حدیث 2830
حدیث نمبر: 2830 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج41 (1851)، سنن الترمذی/الحج25 (846)، (تحفة الأشراف: 3098)، مسند احمد (3/362، 387، 389) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1851) ترمذي (846) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2829) باب پر واپس اگلی حدیث (2831) →