قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، بَعَثَ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ أَحْرَمَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2928)، مسند احمد (3/350) (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ہدی بھیجے اسے اختیار ہے چاہے وہ محرم ہو کر رہے چاہے غیر محرم۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد