عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، إِسْمَاعِيل ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُقِيمُ وَلَا يُحْرِمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 111 (1704)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1312)، (تحفة الأشراف: 17616)، مسند احمد (6/30، 35، 127، 190، 191، 208)، سنن الدارمی/المناسک 86 (1979) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی آپ خود احرام کو نہیں بلکہ حج مر جانے والے کسی حاجی کے ساتھ ہدی بھیج دیتے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح