إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، أَبُو النُّعْمَانِ ، ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْوَلُ ، هِلَالُ بْنُ خَبَاب: ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب:، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ , عَنِ الرَّجُلِ يَحُجُّ يَشْتَرِطُ؟ قَالَ: الشَّرْطُ بَيْنَ النَّاسِ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهُ يَعْنِي عِكْرِمَةَ، فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي، فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہو: «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» ”حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی“، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 22 (1776)، سنن الترمذی/الحج 97 (941)، (تحفة الأشراف: 6232)، مسند احمد (1/352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جس طرح اور شرطیں جائز ہیں اسی طرح یہ شرط بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن صحيح