إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت:" كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحیض3 (297)، التوحید 52 (7549)، صحیح مسلم/الحیض 3 (301)، سنن ابی داود/الطھارة 103 (260)، سنن ابن ماجہ/فیہ 120 (634)، (تحفة الأشراف: 17858)، مسند احمد 6/117، 135، 148، 158، 190، 204، 258، ویأتي عند المؤلف في الحیض 16 (برقم: 381) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں، جیسا کہ مؤلف کے علاوہ دیگر رواۃ نے اس کی صراحت کی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: حسن