عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، شُعَيْبٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرٌ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ , قَالَ جَابِرٌ: قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟ قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ" قَالَ: وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 32 (1557)، (تحفة الأشراف: 2457)، مسند احمد (3/305، 317، 366) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح