حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ" لَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح ق وليس عند خ ذكر الإطلاء
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح ق وليس عند خ ذكر الإطلاء