بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2683 — باب: احرام کے وقت بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: احرام کے وقت بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کا بیان۔ حدیث 2683
حدیث نمبر: 2683 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنَ الْحَجِّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ۲؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج34 (1566)، 107 (1697)، 126 (1725)، والمغازی77 (4398)، صحیح مسلم/الحج25 (1229)، سنن ابی داود/الحج24 (1806)، سنن ابن ماجہ/الحج72 (3046)، (تحفة الأشراف: 15800)، موطا امام مالک/الحج 58 (180)، مسند احمد (6/283، 284، 285) ویأتی عند المؤلف برقم: 2783 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: تلبید: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ۲؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2682) باب پر واپس اگلی حدیث (2684) →