أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرٍ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةُ، فَلَمَّا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَلَدَتْ أَسْمَاءُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب وہ لوگ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو وہاں اسماء نے محمد بن ابوبکر کو جنا۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اسے حکم دیں کہ وہ غسل کر لیں پھر حج کا احرام باندھ لیں، اور وہ سب کام کریں جو دوسرے حاجی کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المناسک12 (2912)، وانظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح