مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج72 (1336)، (تحفة الأشراف: 6360)، مسند احمد (1/343) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بچے کو حج کرانا جائز ہے اس کا اجر ماں باپ کو ملے گا لیکن کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہو جائے تو اس کے لیے دوبارہ فریضہ حج کی ادائیگی ضروری ہو گی بچپن کا کیا ہوا حج کافی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح