إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، حَبِيبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَبِيبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ , قَالَت: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا نَخْرُجُ فَنُجَاهِدَ مَعَكَ فَإِنِّي لَا أَرَى عَمَلًا فِي الْقُرْآنِ أَفْضَلَ مِنَ الْجِهَادِ، قَالَ:" لَا وَلَكُنَّ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ حَجُّ الْبَيْتِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم نکل کر آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں کیونکہ میں قرآن میں جہاد سے زیادہ افضل کوئی عمل نہیں دیکھتی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے بہتر اور کامیاب جہاد بیت اللہ کا حج مبرور (مقبول) ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج4 (1520)، جزاء الصید26 (1861)، والجہاد 1 (2784)، 62 (2875)، سنن ابن ماجہ/المناسک 8 (2901)، (تحفة الأشراف: 17871)، مسند احمد (6/71، 76، 79، 165) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح