مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! اعمال میں سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“، اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“، اس نے پوچھا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”پھر حج مبرور (مقبول)“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 36 (83)، (تحفة الأشراف: 13280)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 18 (26)، والحج4 (1519)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد22 (1658)، مسند احمد (2/268)، ویأتی برقم: 3132 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حج مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو بعض کہتے ہیں کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے جملہ شرائط و آداب کا التزام کیا گیا ہو اور ایک قول یہ ہے کہ حج مبرور سے مراد حج مقبول ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد وہ انسان عبادت گزار بن جائے جب کہ اس سے پہلے وہ غافل تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح