مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانَ بْنَ سَالِمٍ ، عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ سَالِمٍ، قَال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْن؟ قَالَ:" فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کر سکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کر لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 26 (1810)، ت الحج 87 (930)، ق الحج 10 (2906)، (تحفة الأشراف: 11173)، مسند احمد 4/10، 11، 12)، ویأتي عند المؤلف برقم 2638 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں بطور نیابت حج و عمرہ کرنے کی تاکید ہے لیکن نائب کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ خود حج کر چکا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح