عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، الأحکام 17 (7164)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، تحفة الأشراف: 10520)، مسند احمد (1/21، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح