أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، زُبَيْدًا ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَاذَا يُغْنِيهِ أَوْ مَاذَا أَغْنَاهُ؟ قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ" , قَالَ يَحْيَى، قَالَ: سُفْيَانُ، وَسَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی (مالدار) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو“۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے (یہ حدیث) بیان کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الزکاة 23 (1626)، سنن الترمذی/الزکاة 22 (651)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1680) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1626) ترمذي (650،651) ابن ماجه (1840) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
الحكم: صحيح