عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عِيَاضٌ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ تَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٍ، أَوْ أَقِطٍ"، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ , قَالَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ، إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا انگور یا پنیر نکالتے تھے۔ اور ہم برابر ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا۔ تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ شامی گیہوں کے دو مد (یعنی نصف صاع) جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2513 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح