إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ:" كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ، وَنُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ وَنَزَلَتِ الزَّكَاةُ، لَمْ نُؤْمَرْ بِهِ، وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَكُنَّا نَفْعَلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور عید الفطر کا صدقہ ادا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور زکاۃ کی (فرضیت) اتری، تو نہ ہمیں ان کا حکم دیا گیا نہ ہی ان کے کرنے سے روکا گیا، اور ہم (جیسے کرتے تھے) اسے کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11093) (شاذ) (اس کے راوی ”عمرو بن شرحبیل“ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ’’فرض رسول صلی الله علیہ وسلم صدقة الفطر (رقم 2502) کی مخالف ہے جو صحیحین کی حدیث ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح