بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2506 — باب: صدقہ فطر کافر ذمی پر فرض نہ ہونے اور مسلمانوں پر فرض ہونے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: صدقہ فطر کافر ذمی پر فرض نہ ہونے اور مسلمانوں پر فرض ہونے کا بیان۔ حدیث 2506
حدیث نمبر: 2506 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى الْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام مرد، عورت چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے (عید کی) نماز کے لیے (گھر سے) نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 70 (1503)، سنن ابی داود/الزکاة 19 (1612)، (تحفة الأشراف: 8244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2505) باب پر واپس اگلی حدیث (2507) →