يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْخَضْرَمِيِّ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْخَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عَصًا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنْوَ حَشَفٍ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ , فَقَالَ:" لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ حَشَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (مسجد میں پہنچے) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں (لاٹھی سے) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الزکاة16 (1608)، سنن ابن ماجہ/الزکاة19 (1821)، (تحفة الأشراف: 10914)، مسند احمد (6/23، 28) (حسن)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ دستور تھا کہ لوگ مسجد نبوی میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کے کھانے کے لیے کھجوریں لٹکا دیا کرتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن