بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2423 — باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔ حدیث 2423
حدیث نمبر: 2423 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَبَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی (دیہاتی) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعرابی (دیہاتی) سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14624)، مسند احمد 2/336، 346، ویأتی عند المؤلف برقم2430، 2431، مرسلاً، 4315 (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 1567، وتراجع الالبانی 423)»
وضاحت
۱؎: یعنی چاند کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن عمير مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2422) باب پر واپس اگلی حدیث (2424) →