قُتَيْبَةُ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ (برابر) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے (روزہ نہ رہتے) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، سنن الترمذی/الصوم 57 (768)، (تحفة الأشراف: 16202) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح