عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْقَاسِمُ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، مُجَاهِدٍ ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟" نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2324 (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن