قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي جَعْفَرٍ ، جَابِرٌ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قال: تَمَارَيْنَا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ:" يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ مِنْ مَاءٍ"، قُلْنَا: مَا يَكْفِي صَاعٌ وَلَا صَاعَانِ، قَالَ جَابِرٌ:" قَدْ كَانَ يَكْفِي مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ وَأَكْثَرَ شَعْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے، اس پر ہم نے کہا: ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہو گا، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ۱؎ جو تم سے زیادہ اچھے، اور زیادہ بالوں والے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 3 (252)، (تحفة الأشراف: 2641) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح