مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، سُوَيْدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6479)، مسند احمد 1/244، 341، 344، 350 (صحیح) (آنے والی احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت
۱؎: ”قدید“ مدینہ سے سات منزل کی دوری پر ”عسفان“ کے قریب ایک گاؤں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره