عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مُرْنِي بِأَمْرٍ آخُذُهُ عَنْكَ قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو امامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا حکم دیجئیے جسے میں آپ سے براہ راست اخذ کروں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر روزہ لازم کر لو کیونکہ اس کے برابر کوئی (عبادت) نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4861)، مسند احمد 5/248، 249، 255، 257، 258، 264، وانظر الأرقام التالیة (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی شہوت کے توڑنے اور نفس امارہ اور شیطان کے دفع کرنے کے سلسلہ میں روزے کے برابر کوئی عبادت نہیں، یا کثرت ثواب میں اس کے برابر کوئی عبادت نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح