إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، كَهْمَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: لَا، مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، (پھر) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، والصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16217)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، سنن الترمذی/الشمائل 42 (4)، مسند احمد 6/171، 218، 204 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح