سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِي" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا , فَقَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا؟، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن (فرق صرف اتنا ہے کہ) وہ جواب نہیں دے سکتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 713)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2874)، مسند احمد 3/104، 220، 263 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح