مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَذَكَرُوا: أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ، فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جِنَازَتِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ" , فَقَالَ الْآخَرُ: بَلَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور (وہیں) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما (بھی) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الجنائز 65 (1064)، (تحفة الأشراف: 3503)، مسند احمد 4/262 و 5/292 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح