بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2030 — باب: قبر پر عمارت بنانے کے حکم کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: قبر پر عمارت بنانے کے حکم کا بیان۔ حدیث 2030
حدیث نمبر: 2030 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا، أَوْ يَجْلِسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ۱؎ یا اس پر عمارت بنانے ۲؎ یا اس پر کسی کے بیٹھنے ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ یہ فضول خرچی ہے اس سے کوئی فائدہ مردے کو نہیں ہوتا، دوسرے اس میں مردوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔ ۲؎: قبہ اور گنبد وغیرہ بنانے کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ۳؎: یعنی قضائے حاجت کے ارادے سے بیٹھنے یا بطور سوگ بیٹھنے سے منع فرمایا، یا یہ ممانعت میت کی توقیر و تکریم کی خاطر ہے کیونکہ اس سے میت کی تذلیل و توہین ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2029) باب پر واپس اگلی حدیث (2031) →