بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2025 — باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔ حدیث 2025
حدیث نمبر: 2025 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مُنْتَبِذٍ:" فَأَمَّهُمْ وَصَفَّ خَلْفَهُ" , قُلْتُ: مَنْ هُوَ يَا أَبَا عَمْرٍو؟، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا، جو الگ تھلگ تھی، تو آپ نے ان کی امامت کی، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے (شعبی) پوچھا: ابوعمرو! یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، والجنائز 5، 54 (1247)، 55 (1319)، 59 (1324)، 66 (1326)، 69 (1336)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1530)، (تحفة الأشراف: 5766)، مسند احمد 1/224، 283، 338 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2024) باب پر واپس اگلی حدیث (2026) →