بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2014 — باب: لحد میں کپڑا بچھانے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: لحد میں کپڑا بچھانے کا بیان۔ حدیث 2014
حدیث نمبر: 2014 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" جُعِلَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دُفِنَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 30 (967)، سنن الترمذی/الجنائز 55 (1048)، (تحفة الأشراف: 6526)، مسند احمد 1/228، 355 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مشہور یہ ہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض غلاموں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بتائے بغیر بچھایا تھا، ابن سعد نے طبقات (۲/۲۹۹) میں وکیع کا قول نقل کیا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے خاص ہے، اور حسن بصری سے ایک روایت ہے کہ زمین گیلی تھی اس لیے ایک سرخ چادر بچھائی گئی جسے آپ اوڑھتے تھے، اور حسن بصری ہی سے ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم افرشوا لي قطیفتي في لحدي، فإن الأرض لم تسلط علی أجساد الأنبیائ» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2013) باب پر واپس اگلی حدیث (2015) →