سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" , قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ؟ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟ فَلَمَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" , قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: أَعْجَبَنِي لِأَنَّهُ أَسْنَدَ لِي.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبید بن خالد سلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا، اور دوسرا (بھی) اس کے بعد مر گیا، ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں نے کیا دعا کی؟“، تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی: «اللہم اغفر له اللہم ارحمه اللہم ألحقه بصاحبه» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے اپنے ساتھی سے ملا دے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی صلاۃ اس کی صلاۃ کے بعد کہاں جائے گی؟ اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد کہاں جائے گا؟ ان دونوں کے درمیان وہی دوری ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے“۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں: مجھے خوشی ہوئی کیونکہ عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ نے (اس حدیث کو) میرے لیے مسند کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجھاد 29 (2524)، (تحفة الأشراف: 9742)، مسند احمد 3/500، 4/419 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح